ذکر بالجہر پر ایسے دلائل پیش خدمت ھے جو بہت کم لوگوں نے سنا ھوگا لیکن چینل سبسکرائب کریں
Автор: Dars Teching
Загружено: 2026-01-16
Просмотров: 22
ذکرِ جہری (بلند آواز سے اللہ کا ذکر) کوئی نیا عمل یا بدعت نہیں، بلکہ یہ قرآنِ کریم، صحیح احادیث، آثارِ صحابہؓ اور اکابر علماء دیوبند سے ثابت ہے۔
نبی کریم ﷺ کے زمانے میں صحابہؓ نماز کے بعد بلند آواز سے تکبیر و تسبیح کرتے تھے، حتیٰ کہ لوگ آواز سے نماز کے ختم ہونے کو پہچان لیتے تھے۔
اکابر علماء دیوبند جیسے حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ، شیخ الہندؒ، مولانا رشید احمد گنگوہیؒ، علامہ انور شاہ کشمیریؒ اور مفتی محمد شفیعؒ نے واضح طور پر فرمایا کہ ذکرِ جہری جائز ہے اور بدعت نہیں، بشرطیکہ اس میں ریا، شور اور ایذا نہ ہو۔
جو لوگ ذکرِ جہری کو بدعت کہتے ہیں، ان کے شبہات کا جواب دلائلِ شرعیہ کی روشنی میں دیا گیا ہے اور واضح کیا گیا ہے کہ افضل اور جائز میں فرق ہوتا ہے، نہ کہ تضاد۔
یہ بیان ان لوگوں کے لیے ہے جو اہلِ سنت، فقہِ حنفی اور علماء دیوبند کے مسلک کو دلائل کے ساتھ سمجھنا چاہتے ہیں۔
Доступные форматы для скачивания:
Скачать видео mp4
-
Информация по загрузке: