Pakistan || Taj Mohammad and Namro || Great Love Stories S01E30 || Finale Season 1
Автор: Hareem-e-Adab
Загружено: 2022-02-15
Просмотров: 658
For detailed description, story, and pictures, please use the following link: http://destyy.com/eaIQdy
تاج محمد اور نَمرو (Taj Muhammad and Namro) کی سچی کہانی صوبہ خیبر پختونخواہ کی لوک داستان ہے جس کا تعلق ضلع مہمند (سابق مہمند ایجنسیMohmand ) سےہے جسے مومند بھی کہتے ہیں ۔ اس کہانی کو 1960 کی دہائی میں مشہور شاعر عوض خان (Iwaz Khan) نے مثنوی کی شکل میں تحریرکیا۔ اس کا دعویٰ تھا کہ وہ اس سارے معاملے کا چشم دید گواہ ہے۔
عوض خان کے مطابق تاج محمد خان کا تعلق یارہ خیل قبیلے سے تھا اور وہ مہمند ایجنسی میں اپنے باپ سارگل(Sargul) خان کے ساتھ رہتا تھا۔تاج اپنے علاقے میں ہر دلعزیز اور پسندیدہ شخص تھا۔ ہر کوئی اس سے پیار کرتا تھا اور وہ ہر ایک سے پیار کرتا تھا۔ وہ دلکش جوانی اور خوبصورت سراپا کا مالک تھا اور گاؤں کی آزاد خیال لڑکیاں اسے دیکھ کر آہیں بھرا کرتی تھیں۔ اس کے یار دوست اس کی دوستی پر فخر کرتے تھے۔
نَمرو اس کے سگے چچا گلاب خان کی بیٹی تھی ۔ وہ حسن وجمال ، شرم و حیا، لباس کے انتخاب، آراستگی اور سمجھداری میں بے مثال تھی۔ اس کی دلکشی حوروں کو شرماتی اور اس کی چال پریوں کو حاسد بناتی تھی۔ تاج اور نمرو بچپن سے ایک دوسرے کے والہ و شیدا تھے۔ بچپن کی کشش لڑکپن میں محبت اور جوانی میں عشق میں ڈھل گئی۔ سارا گاؤں اس پہ مرتا تھا اور وہ تاج محمد پر مرتی تھی۔ایک دن اس نے تاج سے کہا”تاج میں تم سے بہت محبت کرتی ہوں اور ساری زندگی صرف تمہاری بن کر رہوں گی۔ مجھے کبھی دھوکا نہ دینا، اگر تم نے مجھ سے شادی نہ کی تو میں ساری عمر کنواری رہوں گی،،۔ مگر ان کو پتا ہی نہ چلا اور تاج کے باپ سارگل نے ان کے عشق کی قبر کھود ڈالی۔ اس نے تاج سے پوچھے بغیر اس کی نسبت اپنے بچپن کے دوست کی بیٹی نادرہ سے کر دی۔دونوں کو اس خبر نے نہایت غمزدہ کر دیا مگر نَمروکا حال بہت خراب تھا۔ اس نے رو رو کر اپنی آنکھیں سُجا لیں، تب تاج نے اسے تسلی دی، تم مت گھبراؤ، ایک دن ہمارا بھی آئے گا۔ اسے اپنے خاندان کی بد نامی کا ڈر تھا ورنہ اس کا دل چاہتا تھا کہ وہ اپنے محبوب کے ساتھ گھر سے بھاگ جائے۔ اس کے لئے یہ خیال ہی سوہانِ روح تھا کہ اس کا محبوب کسی اور کی باہوں میں سمٹ کر سوئے۔ دوسری طرف تاج خستہ حالی کے حالت میں مجنوں بنا گلیوں میں آوار پھرتا رہتا۔ لوگوں نے طرح طرح کی باتیں بنانا شروع کر دیں کہ وہ اپنی چچا زاد کے عشق میں ایسا پاگل ہو گیا ہے کہ اسے اپنی منگیتر کا خیال بھی نہیں رہا۔ اس کے باپ سارگل پر بھی لوگوں نے طعنے کسنے شروع کر دیئے کہ یہ کیسا پٹھان ہے جو اپنے بیٹے کی بے غیرتی پر دم سادھے بیٹھا ہے۔ سارگل نے لوگوں کی یہ باتیں سنیں اور تاج کی یہ دیوانگی دیکھی تو اس کی فوراً شادی کر دی کہ شائد اسی طرح وہ بندے کا بچہ بن جائے اور لوگوں کی زبانیں بھی خاموش ہو جائیں۔
نَمرہ نے جب دیکھا کہ اس کے محبوب نے چپکے سے شادی کر لی ہے تو وہ چھپ چھپ کے پہلے سے بھی زیادہ بیقرار ہو کر رونے لگی۔اس کی بھوک پیاس ختم ہو گئی اور وہ سوکھ کر کانٹا بن گئی۔ اس کی ماں بھی اس کی حالت پر کڑھتی رہتی، روتی رہتی اور اسے سمجھاتی رہتی، اپنی بیٹی کے غم میں وہ بہت بیمار رہنے لگی۔نمرو نے جب ماں کی یہ حالت دیکھی کہ وہ مرنے کے قریب ہو گئی ہے تو وہ ماں کی خاطر زندگی کی طرف لوٹ آئی، کھانا پینا شروع کر دیا، پہلے سے بڑھ کر ماں کا خیال رکھنے لگی اور اپنے آپ کو تسلی دی کہ اس کے محبوب نے کہا تھا کہ ہمارا بھی ایک دن آئے گا۔ مجھے صبر اور خاموشی سے اس دن کا انتظار کرنا چاہیے۔ پس وہ انتظار کرنے لگی۔ دو تین سال اسی طرح گزر گئے۔ اس دوران تاج کے دو بیٹے پیدا ہو گئے اور وہ اپنی شادی شدہ زندگی میں مزید دھنستا چلا گیا۔نمرو کے لئے بھی تین چار رشتے آئے مگر وہ صاف انکار کر دیتی۔ رفتہ رفتہ وہ بہت بدنام ہوتی گئی کہ وہ اپنے شادی شدہ محبوب کے انتظار میں ہے کہ وہ کب اسے اپناتا ہے۔بدنامی کی وجہ سے اس کے رشتے آنا بند ہو گئے۔اس کے ماں باپ بھی اس سے بہت نالاں تھے، وہ ان کے لئے بدنامی کا ٹیکہ بن گئی تھی۔
پھر کئی بہاری اور کئی خزائیں گزر گئیں۔ موسم روتے ہوئے آتے اور آہیں بھرتے ہوئے چلے جاتے۔ ایک شدید گرم دوپہر کو وہ اپنے باپ کو کھیتوں پر کھانا دے کر واپس آ رہی تھی ، ہر طرف مہیب سناٹا تھا، گرمی کی شدت سے پرندے بھی اپنے گھونسلوں میں دبکے پڑے تھے، گلیاں ، کھیت کھلیان ہر طرف خاموش اداسی کی فضا بکھری ہوئی تھی کہ اچانک تاج محمد خان کہیں سے نکلا اور نمرو کو آکر روک لیا۔نمرو بولی”تاج اتنے عرصے بعد تمہیں میری یاد کیسے آ گئی، میں تو تمہیں ایک پل کے لئے بھی نہیں بھولی، میں تو تمہیں دیکھنے تک کو ترس گئی ہوں۔ کیا تمہیں اپنا وہ قول بھول گیا ہے کہ ایک دن ہمارا بھی آئے گا؟،، ۔ تاج نے اس کا ہاتھ دباتے ہوئے کہا”میری جان! مجھے لعن طعن نہ کرو، میں تمہیں کبھی بھی نھیں بھول سکتا، آج بڑی مشکل سے چھپ چھپا کر تمہارے پاس یہ کہنے آیا ہوں کہ ہمارے پاس اس کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا کہ ہم گھر سے بھاگ کر اتنی دور چلے جائیں جہاں میری بیوی کے بھائیوں کی تلواریں اور تیر کمان نہ پہنچ سکیں۔ میں نے سنا ہے کہ اللہ تعا لٰی عشق کے پروانوں کی مدد کرتا ہے۔ کسی طرح تم آج رات میرے حجرے میں آ جاؤ تو ہم اپنے مستقبل کا لائحہ عمل طے کریں گے۔ اب میں تم سے دور ہو کر نہیں رہ سکتا۔ ہمیں اپنے لئے اب کچھ نہ کچھ کرنا ہی پڑے گا،،۔ نمرو نے اسے یقین دلایا کہ وہ آج رات اس کے پاس حجرے میں ضرور آئے گی۔ عشق کی آگ نے اسے پہلے ہی خاکستر کیا ہوا تھا، اب وہ ہر قسم کے خطرات اور اندیشوں کو پسِ پشت ڈال کر عشق کی اندھی منزل پر پہنچنے کے لئے بیتاب تھی۔ قول و قرار کے بعد دونوں اپنی اپنی راہ ہو لئے۔ مگر دونوں کے ایک چچا زاد سیمل (Simal) نے رہٹ کی دیوار کی اوٹ سے ان کو ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے دیکھ لیا تھا۔ وہ پہلے ہی دونوں کے غیر قانونی اور غیر شرعی اندھے عشق سے خار کھاتا تھا۔ اب اس نے فیصلہ کیا کہ وہ دونوں کو
For further story , pl click following link
Доступные форматы для скачивания:
Скачать видео mp4
-
Информация по загрузке: