Biography/by shekhul Hadees molana zakarya sb kandhlvi/مولانا زکریا کاندھلوی کتنی عمر میں شیخ بنیں
Автор: Bazme Thanvi
Загружено: 2023-10-01
Просмотров: 19961
Biography/by shekhul Hadees molana zakarya sb kandhlvi/مولانا زکریا کاندھلوی کتنی عمر میں شیخ بنیں#subscribe #islamic #support #molana zakarya sb#support @BazmeThanvi
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
قاعدہترميم
مظفر نگر کے ایک نیک صالح بزرگ ڈاکٹر عبد الحی سے قاعدہ بغدادی پڑھا۔[4]
حفظ القرآنترميم
اپنے والد ماجد محمد یحیی کاندھلوی سے قرآن حفظ کیا۔ مولانا زکریا فرماتے ہیں کہ قرآن یاد کرانے کا والد صاحب کا طریقہ انوکھا تھا کہ ایک صفحہ یاد کرنے کو دے دیتے اور فرماتے کہ 100 مرتبہ پڑھو پھر چھٹی۔ اس طرح مولانا نے قرآن پاک حفظ کر لیا۔[4]
علوم اسلامیہترميم
اردو اور فارسی کتبترميم
1328ھ یعنی 12 یا 13 سال کی عمر تک گنگوہ میں قیام رہا، اس دوران اردو کے دینی رسائل بہشتی زیور وغیرہ اور فارسی کی ابتدائی کتابیں پڑھ لیے جو زیادہ تر شفیق اور بزرگ چچا مولانا محمد الیاس نے پڑھائیں۔[4]
عربی کتبترميم
عربی تعلیم کا باقاعدہ سلسلہ سہارنپور آکر 1328ھ میں شروع ہوا۔ مولانا یحییٰ عام متعارف درسی کتب کے خلاف تھے انکا اپنا انداز تعلیم تھا۔ صرف و نحو کی درسی کتابیں خاص طرز اور ترمیم و اضافہ کے ساتھ پڑھیں، کافیہ کے ساتھ مجموعہ اربعین اور پارہ عم کا ترجمہ پڑھایا،نفحۃ الیمن کے صرف باب ثالث کے قصائد پڑھے، اس کے بعد قصیدہ بردہ، بانت سعاد، قصیدہ ہمزیہ پڑھے۔
مدرسہترميم
حضرت گنگوہیؒ کی وفات کے بعد مولانا یحیٰ ؒ کو مولانا خلیل احمدؒ نے اپنے مدرسہ مظاہر العلوم سہارنپور میں بطور استاذ و مدرسین کے بلوا لیا۔ اس طرح مولانا زکریاؒ کی تعلیم کا سلسلہ سہارنپور میں شروع ہو گیا، آپ نے بقیہ درسیات کی تکمیل کی، کتب منطق مولانا عبد الوحید سنبھلی (استاذ مظاہر العلوم) اور ناظم الامور مولانا عبد اللطیف سے پڑھیں۔[4]
درسیات کی تکمیلترميم
مولانا زکریا نے نصاب کی منتہیانہ کتب مولانا یحییٰ سے ختم کیں مولانا یحیٰ کا پڑھانے اصول پرانے اساتذہ جیسا تھا۔ مولانا کے یہاں طالب علم کا مطالعہ کرکے سبق کو پورے طور پر حل کرکے لانے کی پابندی تھی وہ صرف وہیں رہنمائی اور مدد فرماتے تھے طالب علم کی قوت مطالعہ اور فہم کی رسائی نہ ہو اور شرح حواشی سے مدد نہ ملتی۔ اس طرز پر شیخ زکریا نے اپنے والد سے درسیات کی تکمیل کی۔
حدیث کا آغازترميم
7 محرم الحرام 1332ھ کو ظہر کی نماز کے بعد مشکوٰۃ شریف شروع ہوئی، پہلے مولانا یحیٰ نے غسل فرمایا، پھر مشکوٰۃ شریف کی بسم اللہ کرائی، خطبہ پڑھا، پھر قبلہ رو ہوکر دیر تک دعاکی، شیخ ؒ فرماتے ہیں کہ یہ تو نہیں معلوم ہو سکا کہ والد صاحب نے کیا کیا دعائیں کیں، لیکن میری ایک ہی دعا تھی اور وہ یہ کہ حدیث کا سلسلہ دیر سے شروع ہوا، اللہ کرے کبھی چھوٹے نہیں۔
دورہ حدیثترميم
1333ھ میں دورہ حدیث کی ابتدا ہوئی، یہی سال تھا جب مولانا سہارنپوری نے طویل قیام کے ارادہ سے حجازکا قصد کیا۔ شیخ کا خیال تھا کہ مجھے نہ ملازمت کرنی ہے اور نہ کوئی عجلت ہے، ایک سال میں دورہ حدیث مکمل کرنے کی کوئی پابندی نہیں اس لیے اپنے والد مولانا یحییٰ کے درس میں ابوداؤد شروع کردی، ترمذی شریف کو حضرت سہارنپوری کی واپسی پر ملتوی رکھا تھا لیکن بعض اسباب کی بنا پر ترمذی، بخاری اور ابن ماجہ کے سواء بقیہ کتب صحاح والد صاحب ہی سے پڑھیں یہ سال بڑی محنت اور انہماک کا تھا اس کا بڑا اہتمام تھا کہ کوئی روایت بھی بے وضو نہ پڑھی جائے۔ مسلسل پانچ چھ گھنٹے سبق ہوتا تھا، اس میں کبھی کبھی ہفتہ عشرہ میں سبق کے درمیان وضو کی ضرورت پیش آتی تھی اور صرف اتنی دیر کے لیے اٹھنا ہوتا تھا تو ہم درس سبق مولانا کے سبق کے حرج کی وجہ سے اپنا سبق روک لیتے۔[4]
بیعتترميم
شوال 1333ھ میں حضرت سہارنپوری حجاز مقدس کے طویل قیام کا اردہ فرما رہے تھے اور لوگ کثرت کیساتھ بیعت ہو رہے تھے۔ شیخ زکریا فرماتے ہیں کہ اپنے اندر بھی بیعت جذبہ پیدا ہوا اور حضرت سہارنپوری سے مولانا عبد اللہ اور شیخ زکریا کو بیعت کیا۔ مولانا عبد اللہ صاحب کی دھاڑیں مار مار کو رونے کی وجہ سے مولانا یحیٰ اور شاہ عبد الرحیم چھت کی منڈیر پر منظر دیکھنے آ گئے۔ مولانا یحیٰ کو تعجب ہوا کہ بلا علم و اطلاع کے انہوں نے اتنا برا کام کر لیا لیکن حضرت رائے پوریؒ نے اس جرات بڑی تصویب فرمائی اوو بہت دعائیں دیں۔[4]
والد کا انتقالترميم
1334ھ میں مولانا محمد یحییٰ کا انتقال ہوا۔ والد صاحب نے 8000 روپے قرضہ میں چھوڑے تھے جسے مولانا زکریا نے والد کی وفات کے بعد اپنے ذمہ لے لیا اور سب کو خطوط کے ذریعے اطاع دی اور رفتہ رفتہ تمام قرضہ اتاردیا۔
تدریس پر تقررترميم
یکم محرم 1335ھ کو حضرت شیخ زکریا کا بحثیت مدرس مدرسہ مظاہرالعلوم میں تقرر ہوا اور 15 روپے تنخواہ مقرر ہوئی۔
ابتدائی اسباقترميم
بطور مدرس ابتدا "اصول الشاشی"، "علم الصّیغہ" ،نحو، علم منطق، فقہ اور عربی کی ابتدائی کتابوں سے ہوئی۔ اس وقت شیخ زکریاؒ کی عمر 20 سال
آخر آپ سبھی حضرات سے درخواست ہے کہ آپ ہمارے اس چینل کو سبسکرائب ضرور کریں شکریہ جزاک اللہ خیرا و احسن الجزاء فی الدارین
@BazmeThanvi
Доступные форматы для скачивания:
Скачать видео mp4
-
Информация по загрузке: