حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے بعد خلافت کا حقدار کون تھا ؟ [Face Off EP-10/72]
Автор: FaceOff
Загружено: 2020-11-10
Просмотров: 309
بلاشبہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ ہی خلافت کے حقدار تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی شہادت سے پہلے جن چھ اصحاب کرام رضی اللہ عنہم کی کمیٹی بنائی تھی کہ ان میں سے کسی ایک کو میرے بعد خلیفہ بنا لینا تو ان میں سے چار افراد تو دو کے حق میں معزول ہو گئے تھے۔ یہ دونوں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ تھے کہ جن میں سے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ عامۃ الناس کی رائے سے خلیفہ بن گئے۔ پس حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ ہی خلافت کے حقدار تھے۔
تو اس مسئلے میں امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو بھی اختلاف نہ تھا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ہی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے بعد خلافت کے حقدار تھے۔ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اختلاف خلافت کے معاملے میں نہ تھا بلکہ قصاص عثمان رضی اللہ عنہ میں تھا۔ انجینئر محمد علی مرزا نے جو یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ، حضرت علی رضی اللہ عنہ سے خلافت چھیننا چاہتے تھے تو یہ تاثر غلط ہے۔
تاریخی مصادر میں قاتلان عثمان رضی اللہ عنہ میں دو نام کافی نمایاں ملتے ہیں کہ جن میں سے ایک مالک بن حارث الاشتر ہے۔ مورخین کا تقریبا اتفاق ہے کہ اس شخص کا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے میں نمایاں کردار رہا ہے۔ ابن کثیر کی روایت کے مطابق سب سے پہلے اسی شخص نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کی تھی اگرچہ طبری کی روایت میں ہے کہ سب سے پہلے حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کی تھی۔ اسے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بعد میں گورنر بھی لگایا۔
قاتلان عثمان رضی اللہ عنہ میں دوسرا نام محمد بن ابی بکر کا ملتا ہے کہ جس بارے اکثر مورخین کی رائے یہ ہے کہ یہ بھی بلوائیوں میں شامل تھے لیکن آخر وقت میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے عار دلانے پر شرمندہ ہو کر پیچھے ہو گئے تھے۔ ان کو بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ نے گورنر بنایا تھا۔ واضح رہے کہ یہ صحابی نہیں ہیں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت ان کی عمر چار ماہ تھی۔ البتہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد ان کی بیوی اسماء رضی اللہ عنہا، جب حضرت علی رضی اللہ عنہ کے نکاح میں آئیں تو ان کے بیٹے محمد بن ابی بکر کی پرورش اور تربیت حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کی۔
تو قاتلان عثمان رضی اللہ عنہ میں کچھ لوگ متعین تھے اگرچہ اکثر غیر متعین تھے کہ ایک ہجوم تھا کہ جنہیں بلوائی کہا گیا ہے۔ تو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا شروع میں یہی مطالبہ رہا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنے ارد گرد موجود ان لوگوں سے قصاص لیں یا انہیں ہمارے حوالے کریں۔ البتہ بعد میں ان کے مطالبات میں ایک اور چیز شامل ہو گئی جیسا کہ ابن کثیر نے ذکر کیا ہے۔ بعد میں امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے مطالبے میں یہ چیز بھی شامل ہو گئی تھی کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنانے میں جن لوگوں کا کردار رہا ہے، ان میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والے وہ لوگ ہیں جو قاتلان عثمان رضی اللہ عنہ ہیں لہذا حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنے عہدے سے معزول ہو جائیں اور دوبارہ عامۃ المسلمین اپنا خلیفہ جس کو چاہیں، منتخب کر لیں۔
تو امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا پہلا مطالبہ درست تھا کہ قاتلان عثمان رضی اللہ عنہ سے قصاص لیا جائے لیکن دوسرا مطالبہ درست نہیں تھا کیونکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بیعت محض قاتلان عثمان رضی اللہ عنہ نے نہ کی تھی بلکہ مدینہ اور دیگر اسلامی شہروں میں سے کبار صحابہ رضی اللہ عنہم نے بھی بیعت کر لی تھی البتہ اہل شام نے نہ کی تھی۔ تو قصاص کا ان کا مطالبہ حق تھا لیکن خلافت سے معزولی کا مطالبہ حق سے زائد تھا۔ اسی کو صحیح مسلم کی روایت میں یوں بیان کیا گیا ہے کہ قیامت سے پہلے دو گروہ آپس میں لڑیں گے کہ جن میں سے ایک گروہ حق کے زیادہ قریب ہو گا۔ تو یہ حق اور ناحق یا حق اور باطل کی نہیں بلکہ احق یعنی زیادہ حق اور حق کی جنگ تھی کہ جس میں حضرت علی رضی اللہ عنہ احق یعنی زیادہ حق پر تھے۔
رہی یہ بات کہ کیا حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت میں قاتلان عثمان رضی اللہ عنہ سے قصاص لیا ؟ تو یہ دونوں حضرات یعنی مالک الاشتر اور محمد بن ابی بکر کی وفات تو 38 ہجری میں ہو گئی تھی جبکہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو خلافت 41 ہجری میں ملی ہے۔ البتہ بعض تاریخی روایات میں ملتا ہے کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے ایک گورنر معاویہ بن خدیج نے کہا کہ میں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قصاص میں ستر افراد کو قتل کیا ہے۔ واللہ اعلم بالصواب
Доступные форматы для скачивания:
Скачать видео mp4
-
Информация по загрузке: