لڑکا لڑکی کا بغیر گواہوں کے خود سے نکاح کرلے تو اس نکاح کا شرعی حکم
Автор: QAAZI MUFTI SYED AHMED QASMI OFFICIAL
Загружено: 2023-04-06
Просмотров: 16825
۔
وعلیکم السلام ورحمت الله وبرکاتہ
لڑکا لڑکی کا بغیر گواہوں کے خود نکاح کرلے تو اس کا شرعی حکم
بسم اللّٰه الرحمٰن الرحیم
الجواب وبالله التوفیق
واضح رہے کہ شرعی نقطہ نظر سے عقد نکاح کے انعقاد اور صحت کے لیے ارکانِ نکاح (ایجاب و قبول) کی ادائیگی کے وقت گواہوں کا موجود ہونا بھی ضروری ہے یعنی ایجاب وقبول کے وقت دو عاقل،بالغ،آزاد، مسلمان مرد یا ایک مرد اور دو عورتیں موجود ہوں۔ اگر عقد نکاح کے وقت گواہان موجود نہ ہوں اور یہ عاقدین بعد میں دو یا زیادہ مردوں کو اپنے نکاح کی خبر دے دیں تو محض خبر دینے سے نکاح منعقد نہیں ہوگا
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں لڑکا اور لڑکی کا بغیر گواہوں کے کیا ہوا نکاح منعقد ہی نہ ہوا اور جب نکاح نہ ہوا تو جتنے دن دونوں ایک دوسرے کے ساتھ رہے محض گناہ میں ملوث رہے اس لیے دونوں پر لازم ہے کہ فوراً جدا ہوجائیں اور اعلانیہ توبہ واستغفار کریں اور اگر دونوں ایک ساتھ رہنا چاہیں تو پھر سے نکاح صحیح شرعی کرلیں حلالہ کی ضرورت نہیں
*📒والدلیل علی ما قلنا*📒
قال ولا ينعقد نكاح المسلمين إلا بحضور شاهدين حرين عاقلين بالغين مسلمين رجلين أو رجل وامرأتين۔
(الهداية،كتاب النكاح /٣/ ٥/مکتبة البشری)
قال: ولو تزوج امرأة بغير شهود أو بشاهد واحد ثم أشهد بعد ذلك لم يجز النكاح لأن الشرط هو الإشهاد على العقد ولم يوجد وإنما وجد الإشهاد على الإقرار بالعقد الفاسد والإقرار بالعقد الفاسد ليس بعقد وبالإشهاد عليه لا ينقلب الفاسد صحيحا۔
(كتاب المبسوط للإمام شمس الدين السرخسي،كتاب النكاح،باب النكاح بغير شهود ٥/ ٣٥/دار الكتب العلمية)
فقط والله أعلم بالصواب
اور جدید مسائل کے لیے ہمارے یوٹیوب چینل کو بھی ضرور سبسکرائب کریں
/ @muftisyedahmedqasmiofficial
عاجز نوید بنگلوری
۔
Доступные форматы для скачивания:
Скачать видео mp4
-
Информация по загрузке: