Marsiya | Darbar me Yazeed ke Ahl e Haram chale | Lyrics | Zia Haider Zaidi and Brothers
Автор: Sada e Wilayat
Загружено: 2022-09-01
Просмотров: 16555
LYRICS
دربار میں یزید کے اہلِ حرم چلے
اک آہ سرد کھینچ کے باچشمِ نم چلے
ہم راہ غم گساروں کے اندوھو غم چلے
بولے سر حُسین سے افسوس ہم چلے
ہر سمت دھوم دھام ہے فوجِ خرام میں
زھرا کی بہوئیں جاتی ہیں بزمِ شراب میں
سینوں میں دم ابھی نا سمائے تھے ہے غضب
وہ آئے ریسما لیے ہاتھوں میں بے ادب
گھبرا کے پوچھا بیوں نے تجویز کیا ہے اب
بولا یہ شمر مجلس حاکم میں ہے طلب
تن دور ہے کے روح علی پھر بتول ہوں
مجمع میں رعوب تاریِ آل رسول ہوں
مظلومیت سے رو کے یہ مظلوموں نے کہا
حاکم کی یہ خوشی ہے تو پھر ہم کو اُوضر کیا
بازاروں میں تو پھر چکے بے مکھنا و ردا
آساں کرے گا مشکلیں دربار بھی خدا
حاضر ہیں لے چلو ہمیں تم راہوں لے چلو
سر پر نہیں حسین جہاں چاہو لے چلو
پر اتنا ٹھہرو وارثوں کے سر سے پوچھ لیں
بنتِ نبی کے فرخ منور سے پوچھ لیں
عباس ابنِ حیدرِ صفدر سے پوچھ لیں
دربار جانے جو علی اکبر سے پوچھ لیں
مردہ نہ سمجھو زندہ یہ حیدر کے پیارے ہیں
مختار ہم نہیں ہیں یہ مالک ہمارے ہیں
نیزوں پہ تھے نسب جو شہیدوں کے سر تمام
زینب نے بڑھ کے بھائی کے سر کو کیا سلام
چلائی جو شبہہ جفا شاہ طشنا کام
مرضی ہے کیا حضور کی کیا کہتے ہو امام
دربار کی طلب ہے تو ہمشیر جاتی ہے
عزت رہی صحیح میری شبیر جاتی ہے
سنتی ہوں ساز و رقس ہے اور مجمع کسیر
بیٹھے ہیں کرسیوں پہ فقط چار سو امیر
ہیں حضرتِ امیر سے واقف جوان و پیر
وہاں جا کے اور بھی یہ بہن ہووے گی حقیر
دربار لوٹ گیا تیرا خوں رن میں بہہ گیا
میرے لیے یزید کا دربار رہ گیا
ماں تو یہ بین کرتی تھی زینب باسد بقا
یاں آکے سر سے شاہ کے سجاد نے کہا
اے نورِ چشمِ فاطمہ اے سبط مصطفٰی
اے معنیِٰ قرآن مبین شان کبریا
گر حکم ہو تو مجلسِ میہ خار میں کروں
ماں بہنیں ساتھ لے کے میں دربار میں چلوں
اے بابا شرم آتی ہے کنبہ ہے ننگے سر
ماں بہنیں سر کھلے ہوئے پھرتیں ہیں دربدر
اب اور ظلم ہوتا ہے یا شاہِ بہروبر
صدمہ ہے اہلیب و رسالت مناہ پر
ہر سمت شور و غُل ہے یہ بازارِ شام میں
زھراء کی بیٹی جتی ہے دربارِ عام میں
Доступные форматы для скачивания:
Скачать видео mp4
-
Информация по загрузке: