#chauthe_darweesh_ka_khulasa
Автор: Mir Iqbal
Загружено: 2024-03-19
Просмотров: 285
سیر چوتھے درویش کی
میر اقبال
قصہ ہماری بے سر و پائی کا اب سنو ! ٹک اپنا دھیان رکھ کے مرا حال سب سنو!
کس واسطے میں آیا ہوں یہاں تک تباہ ہو ! سارا بیاں کرتا ہوں اس کا سبب، سنو!
میں چین کا شہزادہ ہوں۔ ناز و نخرے اور بے فکری کی زندگی گزار رہا تھا کہ میرے والد چل بسے۔انھوں نے اپنے چھوٹے بھائی کو تخت دے کر وصیت کی کہ میری ہوش مندی کی عمر تک بادشاہی کرے،اس کے بعد میری شادی اپنی بیٹی روشن اختر سے کر کے تخت سونپ دے۔ چچا نے مجھےجوان ( چودہ برس ) ہونے تک زنانے محل میں رہنے کہا۔ باپ کا نمک حلال حبشی غلام مبارک میرا بڑاخیال رکھتا۔ ایک روز اتفاقاً ایک ادنا سہیلی نے مجھے طمانچہ مارا، پانچوں انگلیوں کا نشان گال پر کر دیا۔ میں روتا ہوا مبارک کے پاس گیا تو وہ چچا کے پاس لے گیا۔ چچانے خود ہی میری شادی کا ذکر کیا اور اوپری دل سے نجومی اور رُمال سے ساعت سعید نکالنے کہا، جس پر انھوں نے ساعت سعید کو اگلے سال تک ٹال دیا۔تین روز بعد مبارک نے روتے ہوئے بتایا کہ خلوت میں چچا نے مجھے تمہاری قتل کرنے کو کہا ہے۔
میں مبارک کے قدموں پر گر کر رونے لگا۔اُس نے اٹھا کر چھاتی سے لگایا اور جہاں والد صاحب سوتے بیٹھتے تھے ، وہاں کرسی کے نیچے بنے تہ خانےمیں لے گیا۔ وہاں سونے کی زنجیروں میں دس خمیں لٹکے تھے۔ انتالیس گولیاں، جڑواؤ کا بنا بندر،اشرفیاں اور جواہر سے لبالب بھرا حوض تھا۔ مبارک نے بتایا کہ؎
جوانی کے وقت سے جنوں کے بادشاملک صادق سے تمھارے والد کی دوستی تھی۔ہر سال مختلف خوشبو میں اور سوغات لے کر ملنے جاتے ۔ ایک ما ہ رہتے ، واپسی پر ملک صادق زمرد کا ایک بندر دیتا جسے اس تہ خانے میں ڈال دیتے۔ اس راز کو صرف میں جانتا ہوں، میرے پوچھنے پر مبارک نے بتایا کہ ایک ہزار ز بر دست دیو اس بے جان میمون (بندر) کےتابع ہیں لیکن جب تلک چالیس بندر جمع نہ ہوں گے سب بے کار ہیں۔مباراک بولا آؤ چلو عطر، بخور اور مناسب چیزیں بازار سے خرید کر اس کے پاس جا کر اس سے درخواست کریں کہ باقی بچا ایک بوزنہ (بندر ) دے دے۔
Доступные форматы для скачивания:
Скачать видео mp4
-
Информация по загрузке: