Shan e Nuzool شان نزول | Usool e Tafseer Series سلسلہ اصول تفسیر
Автор: Ahnaf Media Services
Загружено: 2017-09-20
Просмотров: 14263
چوتھی بحث: شان نزول
شانِ نزول :
قرآن کریم کی آیات دو قسم کی ہیں:
1: جن کے نزول کا سبب کوئی خاص واقعہ یا کسی کا سوال بنا ہو۔
مثال: سورۃ الکوثر کا شان نزول :
ابن ابی حاتم نے سدی سے اور بیہقی سے اور بیہقی نے دلائل النبوۃ میں حضرت محمد بن علی بن حسین رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے کہ جس شخص کی مذکر اولاد مر جائے اس کو عرب ”ابتر“ کہا کرتے تھے یعنی مقطوع النسل۔ جس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قاسم یا ابراہیم کا بچپن ہی میں انتقال ہو گیا تو کفار مکہ آپ کو ”ابتر“ کہہ کر طعنہ دینے لگے۔ ایسا کہنے والوں میں عاص بن وائل کا نام خاص طور پر ذکر کیا جاتا ہے۔ اس کے سامنے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کیا جاتا تو کہتا تھا کہ ان کی بات چھوڑو، یہ کچھ فکر کرنے کی چیز نہیں کیونکہ وہ ابتر (مقطوع النسل) ہیں۔ جب ان کا انتقال ہو جائے گا تو ان کا کوئی نام لینے والا بھی نہ رہے گا۔ اس پر سورت الکوثر نازل ہوئی۔
(معار ف القرآن: ج8 ص828)
2: جن کے نزول کا سبب کوئی خاص واقعہ یا کسی کا سوال نہیں بنا۔ جیسے ”وانذر عشیرتک الاقربین“ (سورۃ الشعراء: 214) اسی طرح شریعت کے دیگر احکام مثلاً ”اقیمو ا الصلاۃ و آتوا الزکوٰۃ“ وغیرہ۔
یہی خاص واقعہ یا کسی کے سوال مفسرین کی اصطلاح میں ”سبب نزول“ یا ”شان نزول “کہلاتا ہے۔
Доступные форматы для скачивания:
Скачать видео mp4
-
Информация по загрузке: