Josh Malihabadi جوش ملیح آبادی کی نظم " موت کا احسان "
Автор: Khursheed Abdullah
Загружено: 2017-07-21
Просмотров: 5290
یوں ہیں شاعر، جاہلانِ بے بصر کے درمیاں
جیسے ، مادر زاد اندھوں میں جمالِ کہکشاں
اہلِ زمزم میں ہو جیسے جامِ صہبائے کہن
جیسے مُلاّ کی گلی میں یوسفِ گُل پیرہن
جیسے، پَٹ بہروں کے نرغے میں گِھرا ہو تان سین
جیسے ، دربارِ یزیدِ شُوم میں ذکرِ حسینؓ
دیکھتے ہیں لوگ،بس مزدور کی چینِ جبیں
گھاؤ لیکن قلبِ شاعر کے کوئی گِنتا نہیں
یوں بسر کرتے ہیں راتیں شاعرانِ سوگوار
اوڑھتے ہیں آنچ کی چادر بچھاتے ہیں شرار
زندہ ہوتے آج اگر حضرت بھی، اے گردوں مآب
شہر بھر میں، جوتیاں چٹخارتے پھرتے جناب
آپ اگر آتے، لیے سینے میں قلبِ درد مند
انجمن میں جاہلوں کے قہقہے ہوتے بلند
قہقہوں کی گونج اتنے گَھن چلاتی بار بار
ٹوٹ جاتا، آپ کے دستِ مبارک میں ستار
بَن پڑے، تو اپنی تُربت کی بلائیں لیجیے
موت کو ، اے حضرتِ خسرو دعائیں دیجیے
جھونپڑوں تک کو ترستے ہیں جو مردانِ کبار
موت ، اُن کو بخشتی ہے، سنگِ مر مر کے مزار
اک صدی پہلے، یہاں تشریف لے آتے ہیں ہم
عمر بھر اِس اس جلدبازی کی سزا پاتے ہیں ہم
ہاں ازل سے ہے یہی آئین و وضعِ روزگار
موت کی فصلِ خزاں دیتی ہے، شاعر کو بہار
زندگی میں جو گدا ہوتا ہے بے نقش و کلاہ
موت لے آتی ہے اُس کے گرد لاکھوں بادشاہ
جب ہماری چشمِ گریاں میں نہیں رہتا ہے نُور
روشنی کی بھیک، ہم سے مانگتی ہے شمعِ طُور
ڈوب کر، ہم موت کی جانب جو ہوتے ہیں رجوع
تو فرازِ کعبۂ مَرقد سے ہوتے ہیں طلوع
موت، ہاں اے شاعروں کی موت، اے بادِ مراد
زندہ و پائندہ و تابندہ و رخشندہ باد
جوش ملیح آبادی
Доступные форматы для скачивания:
Скачать видео mp4
-
Информация по загрузке: