About Sunnat of Rafa ul Yadain ( رفع یدین ), Ameen, Witr & Tarjeeh Wali Azan By Moulana Tariq Jameel
Автор: Saood Tariq
Загружено: 2018-12-26
Просмотров: 383632
ABOUT RAFA UL YADAIN IN NAMAZ
AS PER HAZRAT ABDULLAH BIN UMER R.A (SON OF HAZRAT OMER R.A)
Sahih Bukhari Hadees No 735
Sahih Muslim Hadees No 862
ابن جریج نے ابن شہاب سے اور انہوں نے سالم بن عبد اللہ سے روایت کی کہ حضرت ابن عمرؓ نے کہا : رسول اللہﷺ جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اپنے دونوں ہاتھ بلند کرتے حتیٰ کہ آپ کے کندھوں کے سامنے آ جاتے ، پھر اللہ اکبر کہتے ، پھر جب رکوع کرنا چاہتے تو یہی کرتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو بھی ایسا کرتے اور جب سجدے سے اپنا سر اٹھاتے تو ایسا نہ کرتے تھے ۔
AS PER HAZRAT ABDULLAH BIN MASOOD R.A
Jam e Tirmazi Hadees No 257
علقمہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعودؓ نے کہا: ”کیا میں تمہیں رسول اللہ ﷺ کی طرح نماز نہ پڑھاؤں؟ تو انہوں نے نماز پڑھائی اور صرف پہلی مرتبہ اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن مسعودؓ کی حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں براء بن عازب ؓ سے بھی حدیث آئی ہے، ۳- صحابہ کرام اور تابعین میں سے بہت سے اہل علم یہی کہتے ہیں اور یہی سفیان ثوری اور اہل کوفہ کا بھی قول ہے۔
قال الشيخ الألباني : صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی : ضعيف
قال امام ابوداؤد : ضعيف
قال عبداللہ بن مبارک : ضعيف
VALUE OF RAFA UL YADAIN
Al-Silsila-tus-Sahiha Hadees No 788
عَنْ عُقْبَة بْنِ عَامِرٍ مَرْفُوْعاً:يُكتبُ في كلِّ إشارةٍ يشيرُ الرجلُ (بيده) في صلاتهِ عَشرُ حسناتٍ؛ كلَّ إِصبعٍ حسنةٌ.
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: آدمی نماز میں ( اپنے ہاتھ سے) جو اشارہ كرتا ہے، اس كے بدلے دس نیكیاں لكھی جاتی ہیں، ہر انگلی كے بدلے ایك نیكی۔
ABOUT AMEEN
IMAM SHOULD RECITE AMEEN IN A LOUD VOICE AT THE END OF SURAT-UL-FATEHA IN JAHRI RAKAT OF NAMAZ
Sunnan Ibn Maja Hadees No 855
Sunnan Abu Dawood Hadees No 932
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب «ولا الضالين» پڑھتے تو آمین کہتے، اور اس کے ساتھ اپنی آواز بلند کرتے تھے۔
Sunnan e Nisai Hadees No 880
Jam e Tirmazi Hadees No 248
وائل بن حجر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو «غير المغضوب عليهم ولا الضالين» پڑھ کر، آمین کہتے سنا، اور اس کے ساتھ آپ نے اپنی آواز کھینچی ( یعنی بلند کی ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- وائل بن حجر رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں علی اور ابوہریرہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- صحابہ تابعین اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے کئی اہل علم کا یہی قول ہے کہ آدمی آمین کہنے میں اپنی آواز بلند کرے اسے پست نہ رکھے۔ شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں۔
وضاحت : رسول اللہﷺ سورۃ فاتحہ پڑھنے کے بعد جہراً (اونچی قراءت والی) نماز میں «آمين» بھی اونچی آواز سے کہتے تھے۔ سراً (آہستہ قراءت والی) نمازوں میں «آمين» سراً (آہستہ) کہنے پر تمام مسلمانوں کا اجماع ہے۔ جہری رکعت سے مراد نماز کی وہ رکعت ہے جس میں امام بلند آواز میں تلاوت کرتا ہے جیسا کہ فجر کی نماز، مغرب اور عشاء کی پہلی دو رکعتیں۔ جہری رکعت میں امین بھی بلند آواز میں کہی جائے گی۔ سری رکعت سے مراد نماز کی وہ رکعت ہے جس میں امام پست آواز میں تلاوت کرتا ہے جیسا کہ ظہر اور عصر کی نمازیں، مغرب کی آخری ایک رکعت اور عشاء کی آخری دو رکعتیں۔ سری رکعت میں امین بھی پست آواز میں کہی جائے گی۔
Sahih Bukhari Hadees No 780
Sahih Muslim Hadees No 915
Sunnan e Abu Dawood Hadees No 936
حضرت ابوہریرہ ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : جب امام «آمين» کہے تو تم بھی «آمين» کہو کیونکہ جس کی «آمين» فرشتوں کی آمین کے موافق ہو جائے گی، اس کے سابقہ گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔ ابن شہاب نے بیان کیا کہ رسول اللہﷺ «آمين» کہتے تھے۔
وضاحت : اس حدیث سے امام کے بلند آواز سے آمین کہنے پر استدلال کیا جاتا ہے، کیونکہ اگر امام آہستہ آمین کہے گا تو مقتدیوں کو امام کے آمین کہنے کا علم نہیں ہو سکے گا، اور جب انہیں اس کا علم نہیں ہو سکے گا تو مقتدی اس فضیلت سے مرحوم ہو جائیں گے۔ جہری نمازوں میں سورۃ فاتحہ کے اختتام پر امام بلند آواز سے آمین کہے گا۔ مقتدیٰ امام کی آمین سن کر آمین کہیں گے، اسی سے امام اور مقتدیوں دونوں کے لیے بلند آواز سے آمین کہنا ثابت ہوا۔ یہی امام بخاری کا موقف ہے۔ بنظر انصاف مطالعہ کرنے والوں کے لیے یہی کافی ہے۔
لیکن بعض کے نزدیک اس حدیث سے امام کا بلند آواز سے آمین کہنا تو ثابت ہوتا ہے لیکن مقتدی کا بلند آواز سے آمین کہنے پر اعتراض ہے۔ البتہ اس حدیث سے امام کا آمین کہنا تو ثابت ہے، رہی بات کہ مقتدی امین بلند آواز سے کہیں گے کہ پست آواز میں یہ بات قابل بحث ہے۔ اعتدال رائے یہی ہے کہ مقتدی نہ زیادہ بلند آواز میں آمین کہے اور نہ ہی بالکل پشت آواز میں آمین کہے بلکہ مقتدی کی آمین کی آواز امام کی قرات کی آواز سے اونچی نہ ہو۔
ABOUT WITR
Can We Offer Only 1 Witr & Is it Allowed?
Sunan Abu Dawood Hadees No 1422
Sunnan Ibn Maja Hadees No 1190
Sunnan e Nasai Hadees No 1712
ابوایوب انصاری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: وتر ہر مسلمان پر حق ہے جو پانچ پڑھنا چاہے پانچ پڑھے، جو تین پڑھنا چاہے تین پڑھے اور جو ایک پڑھنا چاہے ایک پڑھے۔
Sahih Bukhari Hadees No 3764
ابن ابی ملیکہ نے بیان کیا کہ معاویہ ؓ نے عشاء کے بعد وتر کی نماز صرف ایک رکعت پڑھی وہیں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے مولیٰ ( کریب ) بھی موجود تھے، جب وہ ابن عباس ؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ( امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی ایک رکعت وتر کا ذکر کیا ) اس پر انہوں نے کہا: کوئی حرج نہیں ہے، انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی صحبت اٹھائی ہے۔
Sahih Bukhari Hadees No 6356
زہری نے، کہا کہ مجھے عبداللہ بن ثعلبہ بن صعیر ؓ نے خبر دی اور رسول اللہ ﷺ نے ان کی آنکھ یا منہ پر ہاتھ پھیرا تھا۔ انہوں نے سعد بن ابی وقاص ؓ کو ایک رکعت وتر نماز پڑھتے دیکھا تھا۔
Доступные форматы для скачивания:
Скачать видео mp4
-
Информация по загрузке: