Sood Ke Nuqsanat| Riba and its Disadvantages | Dr Israr|سود کا انجام بُرا کیوں ہے| سود حرام کیوں ہے
Автор: Creative Studio
Загружено: 2026-01-09
Просмотров: 17
رِبا (سود) کیا ہے؟
ربا اس اضافی رقم کو کہتے ہیں جو قرض دیتے وقت یا ادھار لین دین میں طے شدہ شرط کے ساتھ وصول کی جائے۔ یعنی اصل رقم کے بدلے بلا محنت، بلا خطر اضافہ لینا یا دینا ربا کہلاتا ہے۔
قرآن و سنت میں ربا کو سختی سے حرام قرار دیا گیا ہے۔
قرآن میں ربا کی ممانعت
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
"اللہ نے تجارت کو حلال کیا ہے اور سود کو حرام"
(سورۃ البقرہ: 275)
ایک اور مقام پر فرمایا:
"اگر تم سود نہیں چھوڑتے تو اللہ اور اس کے رسولؐ کی طرف سے جنگ کے لیے تیار ہو جاؤ"
(سورۃ البقرہ: 279)
یہ آیات ربا کی سنگینی کو واضح کرتی ہیں۔
ربا کی اقسام
علماء کے مطابق ربا کی دو بڑی اقسام ہیں:
1. ربا النسیئہ
قرض پر مدت کے بدلے اضافہ لینا
آج کے بینک سود اسی میں شامل ہے
2. ربا الفضل
ایک ہی جنس کی چیزوں کا غیر مساوی تبادلہ
مثال: ایک کلو گندم کے بدلے ڈیڑھ کلو گندم لینا
ربا (سود) کے نقصانات
1. معاشرتی نقصانات
غریب مزید غریب ہو جاتا ہے
امیر طبقہ مزید طاقتور ہو جاتا ہے
معاشرے میں ناانصافی اور طبقاتی فرق بڑھتا ہے
2. معاشی نقصانات
دولت چند ہاتھوں میں سمٹ جاتی ہے
معیشت میں عدم استحکام پیدا ہوتا ہے
قرض کا بوجھ نسلوں تک منتقل ہو جاتا ہے
3. اخلاقی و روحانی نقصانات
خود غرضی اور لالچ میں اضافہ
برکت ختم ہو جاتی ہے
دل کی سختی اور بے سکونی پیدا ہوتی ہے
احادیث میں ربا کی مذمت
حضرت محمد ﷺ نے فرمایا:
"سود کھانے والا، سود دینے والا، سود لکھنے والا اور اس کے گواہ سب برابر گناہگار ہیں"
(صحیح مسلم)
Доступные форматы для скачивания:
Скачать видео mp4
-
Информация по загрузке: