میلاد کے بارے میں سات سوالات کے جوابات
Автор: Zdawah
Загружено: 2025-09-03
Просмотров: 300
click & download اس چھوٹی کتاب کو ڈانلوڈ کرکے پڑھئے
https://drive.google.com/open?id=18-L...
عید میلاد کے بارے میں سات سوالات کے جوابات
اعداد: محمد نصیر الدین جامعی +966533458589
کیا عید میلاد النبی ﷺ منانا غلط ہے؟
جی ہاں، یقینا غلط ہے۔ اس لئے کہ اسلام میں سالانہ عیدیں صرف دو ہی ہیں، ایک: عید الاضحی، دوسرا: عید الفطر۔ جیسا کہ ابودواد 1134کی صحیح حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لائے (تو دیکھا کہ) اہل مدینہ کے ہاں دو دن تھے جن میں وہ کھیل کود کیا کرتے تھے، آپ ﷺ نے پوچھا: یہ دو دن کیا ہیں؟، انہوں نے کہا: کہ ہم دور جاہلیت میں ان دنوں میں کھیل کیا کرتے تھے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَبْدَلَكُمْ بِهِمَا خَيْرًا مِنْهُمَا: يَوْمَ الْأَضْحَى، وَيَوْمَ الْفِطْرِ. بے شک اللہ تعالی نے تمہیں ان دو دنوں کے بدلے ان سے اچھے دو دن دئیے ہیں: أضحی (قربانی) کا دن اور فطر کا دن (یعنی عید الفطر اور عید الأضحیٰ)۔
حدیث کے ان الفاظ پر غور کریں کہ’ اچھے دو دن دئیے ہیں‘، اب اگر عید میلاد منانا اچھا ہوتا تو رسول اللہ ﷺ ضرور اس کی تعلیم دیتے۔ جبکہ حقیقت یہی ہے کہ نہ آپ ﷺ نے عید میلاد منانے کی تعلیم دی نہ خود منائی۔
کیا عید کا نام نہ دے کر جشن میلاد النبی ﷺ منانا غلط ہے؟
جی ہاں، صرف غلط ہی نہیں بلکہ بہت غلط اور بدعت ہے۔ اس لئے کہ نبی کریم ﷺ نے ہمیں جنت میں لے جانے والی ہر اچھی بات بتائی اور جہنم میں لے جانے والی ہر برائی سے ڈرایا۔جیسے آپ ﷺ کا فرمان ہے: إنَّهُ ليس شيءٌ يُقَرِّبُكُمْ إلى الجنةِ إلَّا قد أَمَرْتُكُمْ بهِ، و ليس شيءٌ يُقَرِّبُكُمْ إلى النارِ إِلَّا قد نَهَيْتُكُمْ عنهُ. [الصحيحة 2866] لیکن جشن میلاد کی تو کوئی بات نہ کی۔
کیا عید میلاد النبی ﷺ منانا بدعت ہے؟ تو کیوں؟
ہاں یہ بدعت ہے، اس لئے کہ شریعت میں اس کا حکم نہیں ہے اور لوگ عموما اس کو نیکی سمجھ کر ہی کرتے ہیں، بلکہ نہ کرنے والوں کو گستاخ رسول سمجھتے ہیں۔ جبکہ آپ ﷺ نے فرمایا: مَنْ عَمِلَ عَمَلًا لَيْسَ عَلَيْهِ أَمْرُنَا فَهُوَ رَدٌّ ”یعنی جس کسی نے کوئی ایسا کام کیا جس کے کرنے کا ہمارا حکم نہیں تو وہ مردود ہے“۔ [مسلم 1718]۔ اور ایسی بدعت کرنے والے کا انجام بہت بُرا ہے کہ قیامت کے دن نبی کریم ﷺ کے دستِ مبارک سے حوض کوثر کا پانی نصیب نہیں ہوگا۔ پوری حدیث پڑھ لیجئے صحیح بخاری [6583، 6584]۔
میلاد النبی کا جشن منانے میں تو نبی ﷺ سے محبت کا اظہار ہے؟
نہیں، یہ بات صحیح نہیں۔ اگر ایسا ہے تو کیا صحابہ، تابعین، تبع تابعین، خصوصا چاروں امام اور عموما کئی سارے اماموں کو نبی ﷺ سے محبت نہیں تھی؟ اس لئے کہ انہوں نے تو یہ جشن نہیں منائی؟ جسے قائلین میلاد بھی مانتے ہیں۔ نبی ﷺ کی سچی محبت میلاد النبی کا جشن منانا نہیں! بلکہ آپ ﷺ کی مکمل اتباع کرنا ہے۔ ہمیں صحابہ کرام کی زندگی میں اس کی بہت سی مثالیں ملتی ہیں۔
نصاریٰ عیسی کی پیدائش پر خوشی مناتے ہیں تو ہم کیوں نہ منائیں؟
کیا وہ لوگ عیسی کی تعلیم پر عمل کرتے ہوئے ایسا کرتے ہیں؟ ہرگز نہیں۔ بلکہ اپنی من مانی کرتے ہوئے جشن مناتے ہیں، اسی لئے اللہ نے ان کو ’ضالین‘ (گمراہ) قرار دیا، تو کیا نعوذ باللہ ہم ان کی طرح گمراہ ہوجائیں؟ ایک اور ناحیہ سے غور کریں کہ نصاری عیسیٰ کو خدا سمجھتے ہیں، خدا کا بیٹا سمجھتے ہیں اور آپ کی شان میں غلو کرتے ہوئے ان کا جشن میلاد اور کئی برائیاں کرتے ہیں، جبکہ ہمارے نبی کریم ﷺ نے فرمایا: «لاَ تُطْرُونِي كَمَا أَطْرَتْ النَّصَارَى ابْنَ مَرْيَمَ، فَإِنَّمَا أَنَا عَبْدُهُ، فَقُولُوا عَبْدُ اللَّهِ، وَرَسُولُهُ» ”میرے بارے میں تم ویسے حد سے نہ بڑھو، جیسے نصاری ابن مریم یعنی عیسی کے بارے میں حد سے بڑھ گئے، بے شک میں اللہ کا بندہ ہوں، چنانچہ تم مجھے اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہی کہو“۔ [دیکھئے بخاری 3445]۔
اگرچہ کہ نبی کریم ﷺ اورصحابہ وغیرہ نے یہ جشن نہیں منایا، لیکن ہم مناتے ہیں تو اس میں کونسا گناہ اور کیا برائی ہے؟
جی ہاں، بہت بڑا گناہ، اور بہت بڑی برائی ہے۔ امام مالک :نے فرمایا: جس نے دین میں بدعت نکالی اور اسے اچھا سمجھا تو اس نے یہ گمان کیا ہے کہ محمد ﷺ نے دین میں خیانت کی ہے، جبکہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے: [اليَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الإِسْلَامَ دِينًا] {المائدة:3} ”آج میں نے تمہارے لئے تمہارے دین کو مکمل کیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کردی اور تمہارے لئے اسلام کو بحیثیت دین پسند کیا“۔ [امام شاطبی کی الاعتصام]۔
مذکورہ آیت کی روشنی میں تین باتوں پر غور کیجئے:
کیا آپ یہ سوچ بھی سکتے ہیں کہ
اللہ نے اپنے دین کو مکمل کیا لیکن جشن میلاد کے بارے میں بتانا بھول گیا ؟
یا اللہ نے بتایا تھا لیکن نبی ﷺ نےمیلاد منایا نہ منانے کا حکم دیا؟
یا نبی ﷺ نے منایا، حکم بھی دیا لیکن صحابہ نے عمل کیا نہ اوروں کو بتایا؟
جس کے دل میں ذرہ برابر ایمان ہے وہ کبھی ایسا سوچ ہی ہی نہیں سکتا۔ بلکہ کہے گا:
نہ اللہ بھولا ہے اور نہ میلاد کا حکم دیا ہے،
نہ رسول اللہ ﷺمیلاد منائے ہیں اور نہ ہی منانے کا حکم دئیے ہیں،
نہ صحابہ میلاد منائے ہیں اور نہ ہی دوسروں کو اس کا حکم دئیے ہیں۔
اتنا کچھ واضح ہونے کے بعد اگر پھر بھی کوئی کہے کہ
آخر ولادت رسول کے دن جمع ہوکر سیرت ہی بیان کرتے ہیں، لوگوں کو اچھی باتیں ہی بتاتے ہیں اس میں کوئی خرابی نہیں ہونی چاہئے؟
تو ذرا اس بات کا جواب دیجئے کہ کوئی نماز بہت اچھی عبادت، بہت بڑی نیکی سمجھ کر فجر کے دو فرض کے بجائے چار پڑھنا چاہے تو آپ اُسے کیا کہیں گے؟
یا کوئی دن بھر میں پانچ فرض نمازوں کی جگہ چھ یا سات نمازیں پڑھنا چاہے تو آپ اُسے کیا کہیں گے؟
یہی کہیں گے نا کہ یہ غلط ہے، بلکہ اس کو ثواب کے بجائے گناہ ہوگا۔
کیونکہ اس نے وہ کام کیا جس کی تعلیم نبی کریم ﷺ نے نہیں دی۔ بعینہ یہی جواب آپ کو ہے۔
Доступные форматы для скачивания:
Скачать видео mp4
-
Информация по загрузке: