کیا شب معراج حضور کو دیدار الٰہی ہوا؟ | آپ ﷺ کا سفر معراج جسمانی تھا یا روحانی ؟
Автор: Prof. Abdul Ghafoor Ch Official
Загружено: 2026-01-16
Просмотров: 45
کیا حضورِ پاک صلی کی معراج روحانی تھی؟
جمہور محققین علماءِ کرام کے نزدیک آپ ﷺ کی معراج کا سفر جسمانی تھا، بعض آثار سے جو روحانی معراج کا معلوم ہوتا ہے اس میں علماء نے یہ تطبیق دی ہے ہے کہ آپ ﷺ کو روحانی معراج بھی ہوئی ہے اور جسمانی بھی ہوئی ہے، اور جو قرآن میں معراج کا مشہور واقعہ ہے اس میں جمہور صحابہ اور تابعین کی رائے اور راحج قول یہی ہے کہ یہ سفر بیداری کی حالت میں جسمانی ہوا ہے، اہلِ سنت والجماعت اور علماءِ دیوبند کا یہی موقف ہے۔
حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ ’’نشر الطیب‘‘ میں لکھتے ہیں:
’’تحقیقِ سوم:… جمہور اہلِ سنت و جماعت کا مذہب یہ ہے کہ معراج بیداری میں جسد کے ساتھ ہوئی اور دلیل اس کی اجماع ہے۔‘‘ (نشر الطیب ص:۸۰ مطبوعہ سہارنپور)
حضرت مفتی کفایت اللہ :
"حضور ﷺاپنے جسم ِ مبارک کے ساتھ معراج میں تشریف لے گئے تھے ،اس لیے آپ کی معراج جسمانی تھی ۔ ہاں اس جسمانی معراج کے علاوہ چند مرتبہ حضور ﷺکو خواب میں بھی معراج ہوئی ہے وہ منامی معراجیں کہلاتی ہیں؛ کیوں کہ "منام" خواب کو کہتے ہیں، لیکن حضور ﷺ کا خواب اور اسی طرح تمام انبیاء علیہم السلام کے خواب سچے ہوتے ہیں، ان میں غلطی اور خطا کا شُبہ نہیں ہوسکتا ۔ پس حضورﷺکی ایک معراج تو جسمانی معراج تھی اور چار یا پانچ معراجیں منامی تھیں "۔ (تعلیم الاسلام)
مفتی محمد شفیع عثمانی رحمہ اللہ تحریر فرماتےہیں:
"قرآنِ مجید کے ارشادات اور احادیثِ متواترہ سے جن کا ذکر آگے آتا ہے ثابت ہے کہ اسراء ومعراج کا تمام سفر صرف روحانی جیسے عام انسان سفر کرتے ہیں قرآنِ کریم کے پہلے ہی لفظ سُبْحٰنَ میں اس طرف اشارہ موجود ہے؛ کیوں کہ یہ لفظ تعجب اور کسی عظیم الشان امر کے لیے استعمال ہعراج صرف روحانی بطورِ خواب کے ہوتی تو اس میں کون سی عجیب بات ہے! خواب تو ہر مسلمان، بلکہ ہر انسان دیکھ سکتا ہے کہ میں آسمان پر گیا، فلاں فلاں کام کیے۔
دوسرا اشارہ لفظ "عَبْد" سے اسی طرف ہے؛ کیوں کہ عَبْد صرف روح نہیں، بلکہ جسم و روح کے مجموعہ کا نام ہے۔۔۔" الخ۔(معارف القرآن 5/438)
اور علامہ سہیلی رحمہ اللہ ’’الروض الانف شرح سیرت ابن ہشام‘‘ میں لکھتے ہیں:
’’مہلب نے شرح بخاری میں اہلِ علم کی ایک جماعت کا قول نقل کیا ہے کہ معراج دو مرتبہ ہوئی، ایک مرتبہ خواب میں، دوسری مرتبہ بیداری میں جسد شریف کے ساتھ۔‘‘ (ج:۱ ص:۲۴۴)
اس سے معلوم ہوا کہ جن حضرات نے یہ فرمایا کہ معراج خواب میں ہوئی تھی، انہوں نے پہلے واقعہ کے بارے میں کہا ہے، ورنہ دوسرا واقعہ جو قرآنِ کریم اور احادیثِ متواترہ میں مذکور ہے، وہ بلاشبہ بیداری کا واقعہ ہے اور جسمانی طور پر ہوا ہے، یہی اہلِ سنت والجماعت کا عقیدہ ہے
________
سوال: زید کہتا ہے کہ حضور سرور عالم ﷺ کو معراج شریف میں اللہ رب العزت کا دیدار نہیں ہوا ہے اور دنیا میں کسی کو نہیں ہوا ہے، حالاں کہ حضرت امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے نناوے بار اللہ تعالیٰ کا دیدار محض قرآن پاک کی تلاوت سے ہوا ہے۔ آیا یہ کہنا کہاں تک صحیح ہے؟ براے مہربانی جلد از جلد مع حوالہ جات جواب مرحمت فرمائیں اور جو دیدار کا منکر ہے اس کے واسطے کیا حکم ہے؟
الجواب:
زید کا یہ قول صحیح نہیں مرجوح ہے۔ صحیح و راجح و مختار یہ ہے کہ حبیب خدا اشرف انبیا محمد رسول اللہ ﷺ کو دیدارِ الٰہی ہوا، دنیا میں ہی حضور بہت مرتبہ دیدارِ الٰہی سے مشرف ہوئے چناں چہ احادیث میں وارد ہے:
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، میں نے اپنے رب عزوجل کو بہترین صفت میں دیکھا۔
اسی حدیث کے حاشیہ پر ہے:
اگر حدیث میں خواب میں دیدارِ الٰہی مراد ہے جیسا کہ ایک روایت میں ہے تب تو کوئی اشکال نہیں اور اگر بیداری میں دیدارِ الٰہی مراد ہے جیسا کہ دوسری روایت میں ہے تو تاویل ضروری ہے۔ یہ کہ دنیا میں بحالت بیداری دیدارِ الٰہی حضور کے ساتھ مخصوص ہے جیسا کہ شبِ معراج قولِ مختار پر حضور کو دیدارِ الٰہی ہوا۔
اس عبارت سے دو امر ثابت ہوئے، اول یہ کہ دنیا میں ظاہری نظر سے دیدارِ الٰہی حضور کا خاصہ ہے۔ دوسرے شبِ معراج میں ظاہری نظر سے حضور کو دیدارِ الٰہی ہوا یہی قول مختار ہے۔ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طویل حدیث میں ہے:
یعنی حضور نے فرمایا: ناگاہ میں اپنے رب تبارک وتعالیٰ کے حضور میں حاضر ہوں۔
اسی حدیث میں ہے:
یعنی حضور نے فرمایا دیکھا میں نے اپنے رب تبارک وتعالیٰ کو کہ اپنا دست قدرت میرے شانوں کے درمیان رکھا یہاں تک کہ میں نے اس کی ٹھنڈک اپنے سینہ میں پائی، پس ہر چیز میرے لیے روشن ہو گئی اور میں نے پہچان لیا۔
ان حدیثوں سے دنیا ہی میں حضور کے لیے دیدارِ الٰہی ثابت ہے۔ رہا یہ کہ کس کیفیت سے آپ کو دیدارِ الٰہی ہوا اس کو اللہ تعالیٰ جانے اور اس کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم۔ حضور کے صدقے بزرگان دین و اولیائے کاملین کو بھی یہ نعمت دنیا میں نصیب ہوئی مگر دل کی آنکھ سے یا خواب میں۔ اسی طرح حضرت امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ بچشمِ باطن دیدارِ الٰہی سے مشرف ہوئے اور جنت میں عامۂ مومنین کو یہ نعمت ظاہری آنکھوں سے نصیب ہوگی جیسا کہ احادیث کثیرہ شہیرہ میں فرمایا:
[محمد بن عیسیٰ الترمذي، سنن الترمذي، كتاب صفة الجنة، باب منه، رؤية الرب تبارك وتعالىٰ، ص: ۹۷، مجلس البركات مباركفور]
تم جنت میں اپنے رب کو اتنا ظاہر دیکھو گے جیسے چودھویں رات کے چاند کو دیکھتے ہو۔
حضور اقدس ﷺ جب شبِ معراج جنت میں تشریف لے گئے تو پھر دیدارِ الٰہی ہونے میں کیا شبہہ، اگر چہ شبِ معراج کی کیفیت دیدار میں اختلاف ہے لیکن قول صحیح و مختار یہ ہے کہ نبی کریم علیہ الصلاۃ والتسلیم نے شبِ معراج میں ظاہری نظر سے اپنے رب تبارک وتعالیٰ کو دیکھا، حضرت شیخ محقق مولانا شاہ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ”اشعۃ اللمعات شرح اللمعات شرح مشكاة شريف، ج: ۴، ص: ٢٣٢]
احادیث کریمہ و اقوال ائمہ سے معلوم ہوا کہ حضور اقدس ﷺ کو دیدارِ الٰہی ہوا اور شبِ معراج میں ظاہری آنکھوں سے آپ کو دیدار ہوا۔ یہی مذہب راجح و مختار ہے۔ لہٰذا زید کا قول مرجوح و نا مقبول ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم.
Доступные форматы для скачивания:
Скачать видео mp4
-
Информация по загрузке: