Josh Malehabadi Poetry | جوش ملیح آبادی کی نظم | Fitna e Khankah | Nazam
Автор: Bazm-e-jam
Загружено: 2025-01-10
Просмотров: 1209
Josh Malehabadi Poetry | جوش ملیح آبادی کی نظم | Fitna-e-Khankah | Nazam
#Joshmlehabadi #Nazam
#urdupoetry
Urdu Poetry Of: Josh Malihabadi
Poetry : Fitna-e-Khankah | Nazam
Poetry Recitation: Jam Zafar
____
Shabbir Hasan Khan (1898–1982), popularly known as Josh Malihabadi, was born into a family of landowners in Malihabadi near Lucknow. In 1936, he started publishing a journal called Kaleem from Delhi which continued for three years. In 1941, he joined Shalimar Pictures in Poona and wrote songs for films. In 1948, he was appointed editor of Aaj Kal, a literary journal published by the Ministry of Information and Broadcasting, Government of India, and worked there for eight years. In 1956, he migrated to Pakistan where he was appointed as the literary advisor to the Urdu Board. Josh breathed his last in Islamabad where he was laid to rest.
BAZME JAM CLASSICAL URDU POETRY CHANNEL.
Bazme Jam (بزم جام) is an Urdu literary (Adabi) channel on YouTube.
We present recitations of masterpieces of Urdu poetry, Shayari, Ghazals, Nazam, Masnavi, Sofiyana Kalam, Marsia, Nat, Noha and Kids Nazam etc in the voice of "Jam Zafar" with a classical background music enhance the beauty of poet's poetry melt the ears of the listeners.
SUBSCRIBE NOW MY YOUTUBE CHANNEL BAZME JAM
zafarjam.iqbal@gmail.com
Facebook;
/ zafarjam.iqb. .
بزم جام کا شمار یوٹیوب کے معیاری ترین ادبی چینل میں ہوتا ہے جس پر اردو شعرو ادب کے کلاسک شاہکار شاعری، غزل، نظم، مثنوی، صوفیانہ کلام، مرثیہ، نوحہ، نعت اور بچوں کی نظمیں جام ظفر کی آواز میں پیش کیے جاتے ہیں۔ بزم جام اردو ادب کے لئیے اپنی خدمات جاری رکھنے کی ایک ادنٰی سی کوشش ہے.
جوش ملیح آبادی صاحب کی نظم " فتنۂ خانقاہ" پیش خدمت ہے۔.
" فتنۂ خانقاہ"
اک دن جو بہر فاتحہ آئی بنتِ مہر و ماہ
پہنچی نظر جھکائے ہوئے سوئے خانقاہ
زُہاد نے اٹھائی جھجکتے ہوئے نگاہ
ہونٹوں پہ دب کے ٹوٹ گئی ضرب لا اِلہ
برپا ضمیر زہد میں کہرام ہو گیا
ایماں، دلوں میں لرزہ بر اندام ہو گیا
یوں آئی ہر نگاہ سے آواز الاماں
جیسے کوئی پہاڑ پہ آندھی میں دے اذاں
دھڑکے وہ دل کہ روح سے اُٹھنے لگا دھواں
ہلنے لگیں شیوخ کے سینوں پہ داڑھیاں
پرتو فگن جو جلوہ جانانہ ہو گیا
ہر مرغِ خلد حُسن کا پروانہ ہو گیا
اُس آفتِ زمانہ کی سرشاریاں، نہ پوچھ
نکھرے ہوئے شباب کی بیداریاں، نہ پوچھ
رخ پر ہوائے شام کی گلباریاں نہ پوچھ
کاکل کی ہر قدم پہ فسوں کاریاں نہ پوچھ
عالم تھا وہ خرام میں اس گلعذار کا
گویا نزول رحمتِ پروردگار کا
گردن کے لوچ میں، خم چوگاں لئے ہوئے
چوگاں کے خم میں گوئے دل و جاں لئے ہوئے
رخ پر لٹوں کا ابر پریشاں لئے ہوئے
کافر گھٹا کی چھاؤں میں قرآن لئے ہوئے
آہستہ چل رہی تھی عقیدت کی راہ سے
یا لو نکل رہی تھی دِل خانقاہ سے
آنکھوں میں آگ، عشوہ آہن گداز
لہریں ہر ایک سانس میں سیلاب ناز کی
پلٹیں ہوا کے دوش پہ زلفِ دراز کی
آئینے میں دمک، رخ آئینہ ساز کی
آغوش مہر و ماہ میں گویا پلی ہوئی
سانچے میں آدمی کے گلابی ڈھلی ہوئی
ساون کا ابر، کاکل شبگوں کے دام میں
موجیں شراب سرخ کی آنکھوں کے جام میں
رنگ طلوع صبح، رخِ لالہ فام میں
چلتا ہوا شباب کا جادو خرام میں
انساں تو کیا، یہ بات پری کو ملی نہیں
ایسی تو چال کبکِ دری کو ملی نہیں
ڈوبی ہوئی تھی جنبش مژگاں شباب میں
یا دل دھڑک رہا ہے محبّت کا خواب میں
چہرے پہ تھا عرق، کہ نمی تھی گلاب میں
یا اوس موتیے پہ شبِ ماہتاب میں
آنکھوں میں کہہ رہی تھیں یہ موجیں خمار کی
یوں بھیگتی ہیں چاندنی راتیں بہار کی
ہاتھ اُس نے فاتحہ کو اُٹھائے جو ناز سے
آنچل ڈھلک کے رہ گیا زُلفِ دراز سے
جادو ٹپک پڑا نگہِ دل نواز سے
دل ہل گئے جمال کی شانِ نیاز سے
پڑھتے ہی فاتحہ جو وہ اک سمت پھر گئی
اِک پیر کے تو ہاتھ سے تسبیح گر گئی
فارغ ہوئی ہوا دعا سے جو وہ مشعل حرم
کانپا لبوں پہ سازِ عقیدت کا زیر و بم
ہونے لگی روانہ بہ اندازِ موج یَم
انگڑائی آ چلی تو بہکنے لگے قدم
انگڑائی فرطِ شرم سے یوں ٹوٹنے لگی
گویا صنم کدے میں کرن پھوٹنے لگی
ہر چہرہ چیخ اُٹھا کہ تیرے ساتھ جائیں گے
اے حُسن تیری راہ میں دھونی رمائیں گے
اب اس جگہ سے اپنا مصلّے ٰ اٹھائیں گے
قربان گاہِ کفر پر ایمان چڑھائیں گے
کھاتے رہے فریب بہت خانقاہ میں
اب سجدہ ریز ہوں گے تری بارگاہ میں
سورج کی طرح زُہد کا ڈھلنے لگا غرور
پہلوئے عاجزی میں مچلنے لگا غرور
رَہ رَہ کے کروٹیں سی بدلنے لگا غرور
رُخ کی جوان لو سے پگھلنے لگا غرور
ایماں کی شان عشق کے سانچے میں ڈھل گئی
زنجیر زہد سرخ ہوئی اور گل گئی
پل بھر میں زلف لیلئ تمکین بڑھ گئی
دم بھر میں پارسائی کی بستی اجڑ گئی
جس نے نظر اٹھائی نظر رخ پہ گڑ گئی
گویا ہر اک نگاہ میں زنجیر پڑ گئی
طوفان آب و رنگ میں زہاد کھو گئے
سارے کبوترانِ حرم ذبح ہو گئے
زاہد حدود عشقِ خدا سے نکل گئے
انسان کا جمال جو دیکھا پھسل گئے
ٹھنڈے تھے لاکھ حسن کی گرمی سے جل گئے
کرنیں پڑیں تو برف کے تودے پگھل گئے
القصّہ دین، کفر کا دیوانہ ہو گیا
کعبہ ذرا سی دیر میں بت خانہ ہو گیا
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
Bazme jam, Josh Malehabadi, Josh Malehabadi Poetry, josh ki nazam, josh malehabadi, josh malih abadi, josh malihabadi, josh malihabadi ghazal, josh malihabadi poetry, josh malihabadi shayari, josh palehabadi poetry, josh poetry, malihabadi nazm, malihabadi verses, nazam, nizam poetry, poetry, urdu ghazal, urdu shayari, اردو شاعری, جوش شاعری, جوش ملیح آبادی, جوش ملیح آبادی کی شاعری, جوش کی غزل, سماجی شاعری, شاعری کی دنیا, یادگار اشعار, Fitna-e-Khankah, بنت محروماه, فتنۂ خانقاہ, lehja,
Доступные форматы для скачивания:
Скачать видео mp4
-
Информация по загрузке: