پریم چند کا افسانہ کفن کا فنی وفکری جائزہ
Автор: SULAIMAN SHAH OFFICIAL
Загружено: 2024-01-17
Просмотров: 420
پریم چند کا افسانہ کفن کا فنی وفکری جائزہ
پریم چند سے قبل اردو افسانے کے نقوش انتہائی دھندلے ہیں۔ افسانہ بحیثت صنف ادب پریم چند کی دین ہے۔ انہوں نے سب سے پہلے اردو کے افسانوی ادب کا رشتہ زمین سے جوڑا اور ہندوستان کی دیہی زندگی کے مسائل کو افسانوں کا موضوع بنایا۔ وہ افسانوی ادب جو محض بادشاہوں، شہزادوں، مافوق الفطرت عناصر اور جادوگروں وغیرہ کے بیان تک محدود تھا، اس میں پہلی بار گاؤں کے مسائل، عام انسانوں کے دکھ، درد، غم اور خوشی کے منظر بھی دیکھنے کو ملے۔ “پوس کی رات” ہو یا “بوڑھی کاکی”” پنچایت” ہو یا “عیدگاہ” ” نمک کا داروغہ” ہو یا “بڑے گھر کی بیٹی” پریم چند نے کسی نہ کسی سماجی مسئلے کو اپنے افسانوں کا موضوع بنایا۔ انہوں نے اردو کے افسانوی ادب کو صحیح معنوں میں نہ صرف عکس حیات بلکہ تنقید حیات کے درجے پر پہنچا دیا۔ کفن پریم چند کی زندگی کی آخری تخلیقات میں سے ایک ہے جس میں زندگی بھر کا علم، تجربہ اور شعور جھلک آیا ہے۔ پریم چند اپنی مختصر زندگی میں مختلف قسم کے حادثات وہ تجربات سے گزرے جس کی وجہ سے فکر و نظر کے حوالے سے بھی کئی موڑ اور پڑاؤ آئے۔ کفن میں بالواسطہ یا بلاواسطہ یہ جذبہ اور فلسفہ باطنی سطح پرجھلکتا دکھائی دیتا ہے۔اس کےعلاوہ فنی سطح پر بھی جو پختگی اس افسانے میں دکھائی دیتی ہے وہ ان کے دیگر افسانوں میں کم نظر آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کفن صرف اردو کا ہی نہیں بلکہ ہندوستان کے افسانوی ادب کے چند بڑے افسانوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اردو کے بعض نقاد تو اسے دنیا کے بڑے افسانوں میں شمار کرتے ہیں۔
کفن پریم چند کا شاہکار افسانہ کہا جاتا ہے۔ مسلسل بھوک، استحصال اور سماجی جبر انسان سے کس طرح بنیادی انسانی اوصاف چھین لیتا ہے، اس کی عکاشی پریم چند کے افسانے میں کی گئی ہے۔ مادھو اور گھیسو صرف اس لیے دم توڑتی ہوئی بدھیا کے پاس نہیں جاتے کہ اگر ایک گیا تو دوسرا ان آلوؤں کو کھا جائے گا جو وہ کھیت سے کھود لائے تھے۔ بدھیا کے مرنے کے بعد ہاتھ آئے کفن کے پیسوں کو بھی وہ شراب وہ کباب میں خرچ کر دیتے ہیں اور پھر مختلف تاویلوں سے اپنے ضمیر کی آواز دبانے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ اپنے مکارانہ طرز عمل سے خوش اور مطمئن ہے کیونکہ وہ ان کسانوں سے تو بہتر ہیں جو جی تور محنت کرتے ہیں اور دوسرے اس کا فائدہ اٹھاتے ہیں اور وہ بیچارے اپنی سادہ لوحی کے باعث ہمیشہ نقصان میں رہتے ہیں۔ اس طرح پریم چند کا یہ افسانہ پلاٹ، کردار نگاری، فطری مکالموں اور دیگر فنی خوبیوں کی بنا پر اردو کے اہم ترین افسانے کا مقام حاصل کر لیتا ہے۔
اس افسانے کا پہلا اور بڑا کمال یہ ہے کہ یہ ایک ایسے دو کرداروں کے ذریعہ شروع ہوتا ہے جن کی سماج میں کوئی حیثیت نہیں ہے، وہ نااہل ہیں، کام چور ہیں اور بے حس بھی ہیں چوری چماری کرکے کسی طرح پیٹ بھرتے ہیں ان دونوں کرداروں کا پریم چند یوں تعارف کراتے ہیں۔
”چماروں کا کنبہ تھا اور سارے گاؤں میں بد نام۔ گھیسو ایک دن کام کرتا تو تین دن آرام۔ مادھو اتنا کام چور تھا کہ گھنٹہ بھر کام کرتا تو گھنٹہ بھر چلم پیتا۔ اس لئے انہیں کوئی رکھتا ہی نہیں تھا۔ گھر میں مٹھی بھر اناج ہو تو ان کے لئے کام کرنے کی قسم تھی…… گھر میں مٹی کے دو چار برتنوں کے سوا کوئی اثاثہ نہیں تھا۔ پھٹے چیتھڑوں سے
اپنی عریانی ڈھانکے ہوئےدنیا کے مکروں سے آزاد قرض سے لدے ہوئےگالیاںبھی کھاتے تھےمگر کوئی غم نہیں…..
مٹر یا آلوکی فصل میں کھیتوں سے مٹر یا آلو اکھاڑلاتے اور بھون بھون کر کھاتے- ” ٢
افسانے کی ابتدا بھی آلو کھانے سے ہوتی ہے کہ دونوں باپ بیٹے جھونپڑے کے باہر الاؤ جلائے دوسرے کے کھیت سے چرائےہوئے آلو بھون کر کھا رہے ہیں اور جھونپڑے کے اندر گھیسو کی بہو اورمادھو کی بیوی بدھیا دردِ زہ سے تڑپ رہی ہے اس کی چیخ سن کر گھیسو مادھو سے کہتا ہے۔
”جا دیکھ تو آ”
لیکن مادھو جھنجھلا کر کہتا ہے
مرنا ہے تو جلدی مر کیوں نہیں جاتی۔ دیکھ کر کیا آؤں……” ٣
اور وہ اس لیےبھی اندر نہیں جاتا کہ اسے اندیشہ ہے کہ وہ اندر گیا تو اس کے حصے کا آلو اس کا باپ کھا جائے گا۔احساس کی یہ ستم ظریفی بے حسی ان انسانی و اخلاقی اقدار کی پامالی کی طرف اشارہ کرتی ہے جہاں غربت و افلاس اپنی انتہا پر پہنچ کر سارے اقتدار کو تہس نہس کر دیتی ہے۔ جہاں دو طرح کا احساس، اخلاق، شرافت، حمیت،غربت کا کوئی وجود نہیں رہ جاتا۔
یہ بات غور کرنے کی ہے کہ پریم چند نے بدھیا کے کردار کو زیادہ اہمیت دی ہے۔ جبکہ بدھیا پورے افسانے میں پس پردہ رہنے والی ایک غیر فعال کردار ہے۔ صرف اس کے وجود کا احساس ہوتا ہے لیکن افسانے کی پوری کہانی اسی کردار پر منحصر ہے۔ بدھا کا کردار ایک ایسی عورت کا کردار ہے جو بیوی ہے اور مادھو کے بچے کی ماں بننے والی ہے۔ ایک ایسےغریب گھر میں بیاہ کر آئی ہے جہاں غربت ہی غربت ہے لیکن اس کے باوجود اس عورت نے ایک خستہ حالی اور بے حسی کی دنیا میں ہلکی سی جان ڈال دی ہے۔وہ بے چاری دوسروں کے گھروں میں پسائی کر کے اور گھاس چھیل کر دونوں باپ بیٹے کا پیٹ بھرتی تھی۔ ذرا یہ جملے دیکھیے۔
Доступные форматы для скачивания:
Скачать видео mp4
-
Информация по загрузке: