194 Mufti Mukhtar Uddin Shah Sahib | Professor Hazraat Ke Sath Nishist | پروفیسر حضرات کے ساتھ نشست
Автор: Darul Emaan - Karbogha Sharif (Unofficial)
Загружено: 2025-09-18
Просмотров: 802
مرشد السالکین شیخ المشائخ مختارالاُمّہ مفتی سید مختار الدین شاہ صاحب دامت برکاتہم
( مفتی سید عدنان کاکاخیل صاحب دامت برکاتہم العالیہ کا دس برس قبل اخبار میں چھپا کالم )
قطب الارشادشیخ الحدیث حضرت مولانا زکریا کاندہلوی ؒ کے رشد کا سورج آسمان معرفت پر ضوفشاں تھا ۔ اکناف عالم سے اللہ کا نام سیکھنے اور طریق ہدایت کے متلاشی کھچ کھچ کر مدینہ آرہے تھے جہاں شیخ الحدیث مولانا زکریا ؒ کاندہلوی اب مدینہ شریف کی مبارک مٹی کا پیوند بننے کی آس لئے مقیم تھے۔ اس سے پہلے نصف صدی تک ہندوستان کے صوبہ سہارنپور کا مدرسہ مظاہرالعلوم ان کی حدیثی اور تدریسی خدمات کے غلغلہ سے گونجتا رہا ۔ علوم ظاہریہ کی خدمت کرتے کرتے نصف صدی سے زیادہ بیت چکا تھا اس دوران ماشاءاللہ بہترین طریقے سے علوم نبویہ کی خدمت ہوتی رہی۔
ہزاروں مریدین پوری دنیا میں پھیلے ہوئے تھے اب مدینہ منورہ آکر پڑھنے پڑھانے کا مبارک مشغلہ تو چھوٹ گیا ۔ اب فقط اللہ اللہ تھا ۔ ہرآنے والے کو اللہ تک پہنچنے کا راستہ بتایا کرتےتھے۔ اسی طرح ایک محفل لگی تھی ۔ حضرت شیخ کی زیارت سے سینکڑوں افراد مستفید ہورہے تھے ۔ انہی میں سے قطر سے آیا ہوا ایک سبزہ آغاز نوجوان بھی تھا جو صوبہ خیبرپختونخوا کے ایک بہت ہی معروف روحانی خانوادہ کا چشم وچراغ تھا ۔ یہ شخص (نوجوان) اپنے دیس کے دیگر بیشمار لوگوں کی طرح قطر میں کپڑے کی تجارت کرتا تھا ۔ حج کیلئے حرمین شریفین آنا ہوا ۔ بزرگوں کے خاندان سے تعلق تھا ۔ اللہ والوں کی طلب اور ان کی خدمت میں حاضری کے ذوق سے کیسے محروم ہوسکتا تھا ۔ قسمت نے حضرت شیخ الحدیث کی خدمت میں پہنچا دیا۔ ایک جم غفیر بیعت ہورہا تھا اس نے بھی خاموشی سے دور تک پھیلی ہوئی چادر کا ایک سرا (کونا) پکڑا اور آہستہ سے کہہ دیا
"میں بیعت کرتا ہوں حضرت اقدس مولانا خلیل احمد سہارنپوری سے زکریا کے ہاتھ پر"
حضرت شیخ نے عام مجمع کو تلقین کئے جانیوالے ابتدائی معمولات ارشاد فرمادیئے ۔ شیخ کے فرمودہ اذکار کو پلو سے باندھ کر یہ نوجوان قطر واپس آگیا ۔ اگلے سال پھر حرمین کی حاضری نصیب ہوئی ۔ اس پورے سال میں شیخ کے فرمودہ ابتدائی معمولات کو حرزجاں بنائے رکھا اور کوئی ناغہ نہ ہونے دیا ۔ اگلے سال پھر حضرت شخ کے سامنے ایک مجمع بیٹھا تھا اس میں قطر سے آیا ہوا یہ نوجوان بھی تھا ۔ جب حضرت شیخ سے مصافحہ کیلئے قریب پہنچا تو انہوں نے ہاتھ تھام لیا۔ "بیٹا کا نام ہے؟ " نام بتایا گیا۔ "کہاں کے ہو؟" علاقہ بتایا گیا۔ "کب بیعت ہوئے تھے؟" کہا گزشتہ سال۔ "کیا معمولات ہیں؟" کہا گیا وہی ابتدائی چند تسبیحات جو حضرت نے تلقین فرمائی تھی ۔ مرشد کامل سے گوہر یکتا کہاں چھپ سکتا تھا اسی وقت اجازت و خلافت سے سرفراز فرمایا ۔ نوجوان شاید اس وقت خلافت کے مفہوم سے بھی ناآشنا تھا۔ نوجوان نے کمال معصومیت سے بارگاہ مرشد میں عرض کیا: " حضرت یہ میرے دیگر پیر بھائی لمبے لمبے اذکار کرتے ہیں جہر کے ساتھ ضربیں لگاتے ہیں مجھے بھی کچھ ایسی چیزیں عنایت ہو"۔ مجتہدانہ ذوق کے حامل جہاں دیدہ مرشد کامل مسکرا کر بولے آپ کو اس کی ضرورت نہیں ہے بس وہی تسبیحات کرتے رہیں جو اول دفعہ دی گئی تھیں۔
قربان جائیے ! حضرت شیخ الحدیث کی مومنانہ فراست پر ۔ اس قصے کو چالیس سال ہونے کو آئے ہیں وہ سبزہ آغاز نوجوان آج پیرکہن سالہ ہے کربوغہ شریف کی مسند پر جلوہ افروز اس عظیم شخصیت کو ایک دنیا پیر طریقت رہبر شریعت حضرت اقدس مفتی سید مختارالدین شاہ صاحب کے نام سے جانتی ہے اور کربوغہ شریف ان کے نام سے ایک ضروری لاحقہ ہے۔ حضرت شیخ کی نظر کیمیا اثر پڑنے کی دیر تھی کپڑے کی تجارت چھوڑ کر علوم نبوت کا شوق دامن گیر ہوا ۔ چند سال میں تمام کتب پڑھ ڈالی اور فتوے کی مشق اور تربیت کیلئے دارلعلوم کراچی کا قصد کیا۔ شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی صاحب مدظلہ نے خلاف معمول چند ماہ بعد ہی فتویٰ کی اجازت مرحمت فرمادی۔ یوں علوم ظاہریہ کی تکمیل ہوئی ۔ اس کے بعد اپنے نامور اور باکمال جد امجد حضرت سید عمر شاہ کربوغوی سلسلہ قادریہ غفوریہ کے نامور شیخ اور اس علاقے کے معروف صاحب ارشاد تھے انہوں نے اپنے خاندانی سلسلہ سے بھی اجازت و خلافت سے سرفراز کیا۔ آجکل یہ پیر کہن سالہ کربوغہ شریف میں بیٹھ کر علم و معرفت اور تزکیہ و سلوک کی خیرات بڑی فیاضی سے بانٹتا ہے۔
بیچتے جو دوائے دل
دکان اپنی بڑھا گئے
#bayan #darulemaankarboghasharif #quranandsunnah #islamiclecture
Доступные форматы для скачивания:
Скачать видео mp4
-
Информация по загрузке: