Zikar Majlis II Heart soothing II Shiekh ul Hadees Hazrat Molana Saeed Ullah Shah Sb Db II
Автор: Islamic Bayaan
Загружено: 2021-04-19
Просмотров: 14259
ایک مسلمان میں جب بھی اپنی اصلاح کے حوالے سے ، فکر، آخرت کے حوالے سے یا اللہ جل شانہ کے احکامات اور نبی پاک محمد مصطفیٰﷺ کی مبارک سنتوں پر عمل کرنے کے لیے کوئی جذبہ یا احساس پیدا ہو گا تو وہ پہلی چیز جس کی اس کو ضرورت پیش آئے گی وہ” تزکیہ نفس“ ہو گا۔ قرآن پاک میں نبی پاک ﷺ کی بعثت کے مقاصدِ اربعہ میں سے ایک اہم ترین مقصد ”تزکیہ“ بتایا گیا ہے کہ آپ ﷺ کو جن عظیم الشان مقاصد کے لیے بھیجا گیا ہے، ان میں سے ایک مقصد تزکیہ نفس بھی تھا۔ یہ عمل جس کو قرآن پاک کی زبان میں”تزکیہ“ اور حدیث کی زبان میں ”احسان“ کہ سکتے ہیں، یہ ہر مسلمان کی بنیادی ضرورت ہے۔ ایمان و عقیدہ کے بعد یہی سے اس کی عملی زندگی کا آغاز ہو گا اور یہی اس کا پہلا قدم ہوگا ۔ تزکیہ اور احسان کی ضرورت سے مسلمانوں کی کوئی جماعت یا طبقہ انکار نہیں کرتا۔ مگر اصل سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تزکیہ اور احسان کے لیے جس ماحول کی ضرورت ہے، جس فضا کی ضرورت ہے اور اس کے لیے جن نمونوں اور اسوؤں کی ضرورت ہے وہ عملاً ہمارے گردوپیش میں موجود ہیں یا نہیں ۔؟؟
تزکیہ کے مراکز ہو ں تاکہ اسلامی معاشرہ اپنے دینی تشخص کے ساتھ برقرار رہ سکے، دینی اقدار کے ساتھ اسلامی معاشرے میں دفاعی نظام موجود ہو، معاشرتی اور معاشی نظام موجود ہو ، پھر ایسا معاشری حقیقت میں اسلامی معاشرہ کہلاتا ہے۔
ایک کامل فرد اور کامل معاشرہ تب ہی وجود میں آسکتا ہے جب وہ شریعت کے بتائے ہوئے نصاب پر پورے طریقے سے عمل پیرا ہو ورنہ تو اگر طبیعت کے موافق احکام کو کرنا اور دیگر کو چھوڑنے سے شریعت نہیں بلکہ ہوس پرستی وجود میں آتی ہے اور یہی طرزِ عمل یہود کا بھی تھا ۔ چنانچہ جب دین ان کے مفادات پر اثر انداز نہ ہوتا تو اس پر عمل کر لیتے اور جب ان کے مفادات پر ضرب پڑتی تو دین سے کنارہ کشی اختیار کر لیتے اسی وجہ سے حدیث میں آتا ہے کہ:( لا یبقیٰ من الاسلام الا اسمہ)یعنی ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ ”اسلام کا صرف نام رہ جائے گا “ صحابہ کرام ؓ نے پورے دین پر عمل کر کے عروج پایا یہاں تک کہ قرآن مجید میں ان کے ایمان کو مثال قرار دیا گیا ۔
Доступные форматы для скачивания:
Скачать видео mp4
-
Информация по загрузке: