Inner authentic story of Rawalpindi City|Beautiful City of Pakistan|New Video From Pakistan 2025
Автор: Sheikh The Vloger
Загружено: 2025-12-28
Просмотров: 37
In this video, today we will tell you about the inner story of Rawalpindi city, which markets and nations were settled here before the establishment of Pakistan. Thank you for watching the video in its entirety.
راولپنڈی کی کہانی :
ابتدا میں راولپنڈی ڈنگی کھوئی اور پرانہ قلعہ تک محدود تھا۔ مگر جب سکھ آۓ تو کوچۂ صابونیاں، بھابھڑا بازار، ا۔ اسی طرح کی ایک سراۓ میں آجکل مولانا غلام اللہ خان کی مسجد ہے۔
ڈنگی کھوئی کے قریب ایک کھلا میدان تھا۔ جہاں بانس فروخت کرنے کی منڈی تھی۔ اس منڈی کے باعث بازار کا نام بانساں والا بازار مشہور ہو گیا۔ موچی بازار اور قصائی گلی بھی سکھ عہد میں بنیں۔قصائی گلی کے دونوں کونوں پر(راجہ بازار کی جانب) چھوٹے گوشت کی دکانیں تھیں۔جس کی وجہ سے یہ قصائی گلی کہلائی۔ سکھ دور میں بڑے گوشت پر پنجاب میں پابندی تھی۔ جب انگریزوں کے قبضے کے بعد پنجاب میں بڑے جانور کے ذبیحہ کی اجازت ملی تو پنجاب بھر میں بڑے گوشت کے قصائی نہ ہونے کی وجہ سے انگریزوں نے میرٹھ سے قریش برادری کو لا کر یہاں آباد کیا۔
مہاراجہ کشمیر راجہ ہری سنگھ نے راولپنڈی کا پہلا سنیما گھر بھی بنوایا۔ جسکا نام اُس کے بزرگ اور ریاست کے پہلے ڈوگرہ مہاراجہ گلاب سنگھ کے نام پر “ روز “ رکھا گیا۔ اسکے بعد مزید تین سنیما نیو روز، امپیریل اور نگار تعمیر ہوۓ۔
چوہدری وارث خان کے آبا و اجداد اسی جگہ آباد تھے جہاں آج کل چوہدری مولا داد چوہان کے مکان ہیں۔انہی کے نام سے محلہ چوہدری وارث خان آباد ہوا۔ اس خاندان کے لوگ سالوں تک راولپنڈی میونسپل بورڈ( بعد میں میونسپل کمیٹی) میں چھاۓ رہے۔اور اسکے ممبر منتخب ہوتے رہے۔اسی زمانے میں ایک ہندو مائی ویرو نے عوامی بھلائی کے لئے پختہ تالاب بنوایا۔ تو محلہ بنی وجود میں آیا۔ یہ تالاب نہایت خوبصورت تھا اس کی گہرائی اٹھارہ فٹ تھی۔ چاروں طرف سیڑھیاں بنی ہوئیں تھیں۔ تقسیم کے بعد جب یہ تالاب متروک ہوا تو اہل محلہ اس کو بند کرنے کا مطالبہ کرنے لگے۔ برسات کے موسم میں اسکے پانی میں اکا دکا بچوں کے ڈوبنے کے واقعات کے وجہ سے اسے مٹی سے بھر دیا گیا اور یہاں دکانیں بنا کر راجہ بازار
انگریزی عہد میں ہی چوہدری مکھا سنگھ نے سٹی صدر روڈ پر مکانات تعمیر کراۓ۔ وہ ناچ گانے اور قوالیوں کے شوقین تھے۔ بر صغیر کے بڑے بڑے فنکاروں اور طوائفوں نے یہاں انکی محفلوں میں شرکت کی۔ انکے یہاں ہر وقت لنگر خانہ کھلا رہتا تھا اور کسی بھی قسم کی مذہبی تفریق نہیں تھی۔ سردار مکھا سنگھ محرم کی مجالس اور مہندی، عاشورہ کے جلوس میں نہایت عقیدت و احترام سے شریک ہوتے تھے۔مہندی کی تمام رات جلوس کے ساتھ گذارتے۔ شہر کے امام باڑہ میں دسویں محرم کو ہمیشہ انکی طرف سے دیگیں پکائی جاتیں۔
شاہ چن چراغ بڑے اولیاء اللہ تھے۔ شیر شاہ سوری کے عہد میں ادھر آ کر آباد ہوۓ۔ آپ کا مزار مرجع خلائق تھا اور انگریز دور میں راولپنڈی کے مشہور تین میلوں میں بری امام کا میلہ اور شاہ چن چراغ کا میلہ مشہور تھے۔ تیسرا میلہ ہندوؤں کا سید پور گاؤں میں لگتا تھا۔ بر صغیر کی مشہور طوائفیں بلکہ تمام طوائفیں بری امام جانے سے پہلے یہاں شاہ چن چراغ کے مزار پر حاضری دیا کرتی تھیں۔جسے “چوکی بھرنا “ کہتے تھے۔
مسلمانوں کے قدیم قبرستان پیر ودہائی ، عیدگاہ اور شاہ دیاں ٹالیاں تھے۔
اسی دور میں قصائی گلی پُررونق ہوئی اور یہاں اہل نشاط نے ڈیرے جماۓ۔ شادی بیاہ میں انکی بہت طلب ہوتی تھی کیونکہ شادی بیاہ کی تقریبات کم از کم ایک ایک ماہ تک چلتی تھیں۔انگریزی دور میں لاہور کی ہیرا منڈی اور راولپنڈی کی قصائی گلی بہت مشہور ہوئیں۔
جنگ عظیم اول اور دوم کے درمیانی عرصہ میں راولپنڈی کی آبادی میں خاصا اضافہ ہوا۔اور دیکھتے ہی دیکھتے راولپنڈی کے گردونواح میں چھوٹی چھوٹی آبادیاں جنہیں ڈھوک کہتے تھے( ڈھوک چند گھروں پر مشتمل آبادی ہوا کرتی تھی) شہر کا حصہ بن گئیں۔ جن میں ڈھوک کھبہ، ڈھوک الٰہی بخش، ڈھوک رتہ، ڈھوک چراغ دین، ڈھوک فرمان علی،ڈھوک پیراں فقیراں وغیرہ شامل تھیں۔ان کے ساتھ ساتھ رتہ امرال، چاہ سلطان، امر پورہ، فیروز پورہ، ارجن نگر، محلہ راجہ سلطان، بھٹہ نیک عالم،محلہ عید گاہ، نیا محلہ، کمیٹی محلہ، محلہ قطب الدین، موہن پورہ، کوہاٹی بازار، انگد پورہ، آنند پورہ، کرتار پورہ وغیرہ کی بستیاں بس گئیں۔ جس شہر کی آبادی پچاس ہزار تھی بڑھ کر ڈیڑھ لاکھ ہو گئی۔
نالہ لئی شہر اور چھاؤنی کے درمیان حد فاصل تھا۔ صدر کی آبادی بھوسہ منڈی، کوئلہ سنٹر، میسی گیٹ، ہاتھی چوک ، احاطہ مٹھو خان، احاطہ فضل الٰہی اور آر اے بازار تک محدود تھی۔ بعد میں ٹینچ بھاٹہ، آدڑہ،مغل آباد،
Доступные форматы для скачивания:
Скачать видео mp4
-
Информация по загрузке: